(فتویٰ نمبر: ۱۸)
سوال:
اقتدار پر قابض رہنے کے لیے جادو، ٹونااورتعویذ گنڈے کرنا اور کروانا جس سے مد مقابل حضرات کو جسمانی اور دیگر تکالیف میں مبتلاکرنا، اور گندے عملیات (جس کو علاقائی زبان میں ”موٹ مارنا“ کہتے ہیں) غیر مسلم حضرات سے جان سے مروانے کے لیے کروانامقصود ہو، جب کہ غیر قانونی اور غنڈہ گردی کے زور پر وہ شخص ایک بڑے دینی ادارے کے اقتدار پر قابض ہے، اور الحمد للہ مولوی بھی ہے، لہٰذا آپ مفتیانِ کرام حضرات شریعت کی روشنی میں جلد از جلد جواب ارسال کرنے کی زحمت گوارا کریں ،تاکہ شرعی عدالت کی روشنی میں آگے کی کاروائی کی جاسکے، ان مولوی صاحب کے ان اقدامات کے پختہ ثبوت حاصل ہونے پر ہی آپ سے رجوع ہونا پڑا۔
الجواب وباللہ التوفیق:
جس سحر میں ایسا کوئی عمل یا اعتقاد اختیار کرنا ہوتاہو جس سے ایمان باقی نہیں رہتا، اس کا سیکھنا اور کرنا، یا دوسرے سے کروانا کچھ بھی جائز نہیں۔(۱)
اسی طرح جب تعویذات کے ذریعے خواہ وہ آیاتِ قرآنیہ یا وظیفہٴ اسمائے الٰہیہ سے ہوں، کسی مسلمان کو جسمانی اذیت وکلفت دینا مقصود ہو تو یہ بھی جائز نہیں بلکہ حرام ہے، کیوں کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایذائے مسلم سے کلیةً منع فرمایا ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے،اس کے ساتھ نہ خیانت کرے،نہ اس کو جھٹلائے اور نہ اس کو ذلیل ورسوا کرے، ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی عزت،اس کا مال اور خون حرام ہے، (دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا) تقویٰ یہاں ہے،آدمی کے براہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔“(۲) خصوصاً جب کہ یہ عمل کسی غیر مسلم سے کرایا جائے، تو اس کی قباحت وشناعت اور بڑھ جائے گی، کیوں کہ اس میں شرک کی باتیں ہوتی ہیں جس کی تعظیم اور اعتقاد کفر ہے۔ (۳)
لہٰذا اس طرح کا جادو ،ٹونہ ، یا تعویذات وغیرہ شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اور مسلمان پر محرماتِ شرعیہ سے اجتناب فرض ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” رد المحتار “ : وفي فتاویٰ ابن حجر : إن تعلمه وتعلیمه حرام شدید التحریم ، لما فیه من إیهام العوام أن فاعله یشارک اللّٰه تعالی في غیبه ۔
(۱/۱۲۸ ، مطلب في التنجیم والرمل)
(۲) ما في ” جامع الترمذي “ : عن أبي هریرة رضي اللّٰه عنه قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” المسلم أخو المسلم ، لا یخونه ، ولا یکذبه ، ولا یخذله ،کل المسلم علی المسلم حرام ؛ عرضه وماله ودمه ، التقویٰ ههنا ، بحسب امرئ من الشر أن یحتقر أخاه المسلم “ ۔ هذا حدیث غریب ۔ (۲/۱۴)
(۳) ما في ” رد المحتار “ : فإن کان في ذلک (أي السحر) رد ما لزم في شرط الإیمان فهو کفر ، وإلا فلا ۔ (۶/ ۳۸۳) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴/۰۱/۱۴۲۹ھ
