حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہٴ طفیل میں قبول فرما!

(فتویٰ نمبر: ۲۰۸)

سوال:

دعا میں یہ جملہ: ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہٴ طفیل میں قبول فرما“ کون سی حدیث سے ثابت ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے دعا مانگنا شرعاً جائز بلکہ قبولیتِ دعا کا ذریعہ ہونے کی وجہ سے مستحسن اور افضل ہے، نیز حدیثِ پاک سے ثابت ہے ،جیسا کہ عثمان بن حنیف کی یہ روایت ہے کہ ایک نابینا شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور عرض کیا کہ دعا کیجیے کہ اللہ مجھے عافیت دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہے تو دعا کردوں، اور اگر تو چاہے تو صبر کرلے، اور یہ زیادہ بہتر ہے، انہوں نے عرض کیا دعا ہی کردیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ اچھی طرح وضو کرلے، اور یہ دعا کرے کہ اے اللہ! میں آپ سے درخواست کرتا ہوں، اور آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں بوسیلہٴ نبی رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، میں آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کے توسل سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اپنی اس ضرورت کے سلسلے میں،تاکہ تو میری ضرورت پوری کردے، اے اللہ! میرے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت قبول کیجئے!

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” جامع الترمذي “ : عن عثمان بن حنیف أن رجلا ضریر البصرأتی إلی النبي ﷺ فقال : أدع اللّٰه أن یعافیني قال : ” إن شئت دعوتُ وإن شئت صبرتَ فهو خیر لک “ ، قال : فادعه ، قال : فأمره أن یتوضأ فیحسن وضوء ه ویدعو بهذا الدعاء : ” اللّٰهم إني أسئلک وأتوجه إلیک بنبیک محمد نبي الرحمة إني توجهت بک إلی ربي في حاجتي هذه لتقضي لي ، اللّٰهم فشفعه فيّ “ ۔ (۴/۴۰۷ ، کتاب الدعوات) (صحیح البخاري : ص/۱۸۸ ، جمع الفوائد : ۴/۶۵۳ ، رقم : ۹۴۲۱) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۹/۴/۱۴۳۰ھ

 

 

Scroll to Top