(فتویٰ نمبر: ۶۴)
سوال:
اگر کوئی شخص کسی کافر آدمی کو ایسا تعویذ دے،جس میں قرآنی آیات یا آیت کا بعض ٹکڑا مکتوب ہوتو جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب وباللہ التوفیق:
بہتر یہ ہے کہ کفار کو آیاتِ قرآنیہ کا تعویذ بالکل نہ دیا جائے،کیوں کہ اس میں قرآنی آیت کے کاغذ کو مشرک کا ہاتھ لگنے کا قوی احتمال ہے ، لیکن اگر بے ادبی کا احتمال نہ ہو اور تعویذ کے کاغذ پر ایک دوسرا سادہ کاغذ لپیٹ دیا جائے تاکہ قرآن کی آیت کے کاغذ کو مشرک کا ہاتھ نہ لگے تو جائز ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿لا یمسُّہ إلا المطهرون﴾ ”جسے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا بجز پاکوں کے۔“(سورة الواقعة :۷۹)فقط
واللہ أعلم بالصواب
کتبه العبد : محمد حعفر ملی رحمانی ۔۲۵/۴/۱۴۲۹ھ
الجواب صحیح : عبد القیوم اشاعتی۔ ۲۵/۴/۱۴۲۹ھ
